صدائے حق ….خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے

گزشتہ چند ہفتوں سے بڑے عجیب تر واقعات سامنے آرہے ہیں ۔کبھی کسی بزرگ کی موت کی خبر،کبھی کسی جوان کی اور کبھی معصوم بچوں کی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی موت طبعی نہیں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ انکو مارا گیا ہیں ۔مرنے والے کے لواحقین اپنے عزیز کی بے گناہی کا واویلا مچاتے ہیں اور مارنے والے اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کوشش کرتے ہیں۔آخر مجرم کون ہے؟ کوئی تو ہے ان سب کا ذمہ دار ،بہت سوچ و بچار کے بعد سمجھنے کی کوشش کی تو معاشرتی شوروغل اور زندگی کے تیز رفتاری نے کچھ سمجھ نہیں آنے دیا۔ اگر معاشرے کی باسیوں کی طرف دیکھا جائے تو سب اپنے آپکو معصوم سمجھتے ہیں اگر اسی معاشرے کو چلانے والوں سے سوال کیا جائے تو وہ اپنے آپکو امیر الا مومنین سمجھتے ہیں۔اور بغل میں چھری رکھ کے منہ میں رام رام کہتے ہیں۔
یہ بیمار معاشرے کے باسی کون ہیں ؟یہ میرے عزیز پاکستانی ہیں۔
کچھ واقعات کا ذکر کروں تو صلاح الدین کا کیس سب کے سامنے ہے لیکن اسکی جان لینے کا حق کسی کو نہیں ۔اسکا یوں بے دردی سے مرنا بیمار معاشرے کے منہ پہ تمانچہ ہے۔ شہر لاہور میں ایک مسیح جوان کی چوری کے الزام میں پولیس تشدد سے موت واقع ہوجاتی ہے ایک بزرگ خاتون کو پولیس آفس کے باہر سرعام گالی دی جاتی ہے۔ یہ لوگ کون ہیں انکے مذہب پہ تو فتوی نہیں دے سکتا ۔بہر کیف انکی خودی مسلماں کیوں نہیں ہے ۔ کہاسے آج اقبال آئیں کہا سے قائد آئیں۔
دوسری طرف متاثرین کے لواحقین کی بات کرتے ہیں،صلاح الدین کے بزرگ باپ کو روتے دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا ،لیکن بہت سے سوالات نے جنم لیا کہ صلاح الدین کو کیوں ایسے کاموں سے نہیں روکا گیا ،اگر وہ واقعی پاگل تھا تو اسکا علاج یا دیکھ بھال کرنا پولیس کی ذمہ داری تھی ؟ نہ جانے صلاح الدین نے جو پیسے مشین سے چرائے وہ کس غریب کے تھے نہ جانے اس پیسوں سے کسی بے بس ،غریب ماں کا،بہن،بھائی،بزرگ کا گھر چلتا ہو۔ یہ سب کا ایمان ہیں کہ جرم چھوٹا ہو یا بڑا سزا ملتی ہے ۔اور قدرت اس دنیا میں ہی دیتی ہے!
لاہور میں چوری کے الزام میں پولیس حراست میں مرنے والے نوجوان نے کتنی سفاک وارتیں کیں ہو۔ کوئی نہیں جانتا ۔لیکن! یہ سب جانتے ہیں کہ یہ ظالم چور ،ڈاکو جب وارتیں کرتے ہیں تو یہ دولت کی لالچ میں اور اپنی حوس پوری کرنے کے لیے ایک خاوند کے سامنے اسکی بیوی ،ایک بھائی کے سامنے اسکی بہن کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے اور وہ بد قسمت بے بس ہوتے ہیں ۔اُس وقت انکا ضمیر انہیں جھنجھوڑتا ہیں کہ انہیں موت آجائے یا ان درندوں کو مار دیں۔وہ تو یہ سوچتے ہی نہیں کہ انہیں قانون کی مطابق انصاف ملے۔
حالانکہ یہ چور ،ڈاکووں کے گھر والے انکی حرام کی کمائی خوب کھا رہے ہوتے ہیں ۔ باطنی طور پہ سارے اعمال اچھے انسانوں والے کر رہے ہوتے ہیں ۔ لیکن ! ظاہری طور پہ نہیں ،پھر جب ان ظالموں پہ قدرت کا قہر آن پڑتا ہے تو پھر یہی کھانے والے روتے ہیں،جو یقیناً بے سود ہوتا ہے۔
کیونکہ ظلم کو آخر ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔
کوئی شک نہیں،بعض اوقات چھوٹے جرم کی بہت بڑی سزا مل جاتی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ عوام کے مال و جان کے تحفظ کا حلف لینے والے ،کیسے اپنے حلف سے مکر سکتے ہیں ؟
پولیس کا کام ہے کہ معاشرے سے جرائم کا خاتمہ کرے ،لیکن انکا یہ کام نہیں کہ وہ خود عدالت بنیں۔
بظاہر تو اوپر بیان کیے گئے یا سانحہ ساہیوال جیسے واقعات سے پولیس والے بچتے چلے جارہے ہیں ! یقیناً ایسے بے رحم انسانوں کو روز محشر جواب دینا پڑے گا۔ کیا یہ لوگ انسان نہیں ،کیوں انسان کے روپ میں حیوانیت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔کیوں یہ رشوت لیتے ہیں ،کیسے اپنے بچوں کو حرام کھلا لیتے ہیں۔ کیسے یہ کیفے الانتو میں سرعام شراب کا کاروبار کرواتے ہیں ۔انکی خودی کیوں مر گئی ہے کون ذمہ دار اس سب کا؟
دوسری طرف ایسے بد کرداروں کی صفحوں میں سے ایسے ایسے ماوں کے لال دیکھے ،جنہوں نے جرائم کے خاتمے کے لیے اپنی جانیں دیں۔ اور بہت سے آج بھی اپنے حلف کی پاسداری کیے ہوئے اور اپنے مظبوط ایمان کیساتھ دن رات عوام کی خدمت کرتے ہیں ۔اور ان لوگوں کا دونوں جہانوں میں یقیناً مرتبہ بلند ہیں۔
پولیس سسٹم کی بہتری کے لیے پولیس کہ کچھ سنیر اور جونئیر ز آفیسرز سے بات کی، انہوں نے اپنے اپنے تجربے کے مطابق پولیس ریفارمز کی بات کیں، تشدد کے بارے میں انہوں بتایا یہ جرائم پیشہ لوگ جرم کرتے وقت ایسے ایسے عمل کرجاتے ہیں
جس کے بعد پولیس والا بھی ایک انسان ہے وہ بھی جذبات کھو بیٹھتا ہے مثلاً ننھی کلی زینب کا کیس ،معصوم بچوں کیساتھ اساتذہ کی رب کے گھر (مسجد) میں زیادتی وغیرہ ۔ایک انتہائی قابل تفتیشی آفیسر نے بتایا کہ یقیناً پولیس کی تربیت ،انکے رویے کو بدلنا ،انکو نفسیاتی طور پہ مظبوط کرنا ،انکی تعلیمی قابلیت کو بہتر کرنا ،انکے اس شعبہ میں بھرتی کے عمل کو شفاف کرنا جو خاص طور پہ نچلے درجے کا عملہ ہے یہ سب سے بنیادی کام ہیں ۔ اگر یہ تمام خصوصیات اگر پاکستان کی کسی پولیس فورس میں نظر آتی ہیں تو وہ لاہور کی ڈولفن فورس میں کافی حد تک پائی جاتی ہیں ۔اور لوگ انکی عزت بھی کرتے ہیں۔جو یقیناً قابل ستائش بات ہے ۔
نفسیات کے ماہر ڈاکٹرز اس بارے میں کہتے ہیں کہ مینٹل ہیلتھ قوانین پہ عمل ہونا چاہیے ،پولیس والوں کے رویوں کو درست کرنے کے لئے تھانہ کی سطع پہ کونسلنگ ہونے چاہیے ہر تھانے میں ایک ماہر نفسیات بھی ہو تاکہ پولیس اہلکار اپنا کیتھارسز کرسکے۔
اس سب باتوں پہ عمل کرنے کے لیے ریاست کے باسیوں اور ملک کو چلانے والوں کا برابر کردار ہو،تاکہ ایک قوم بن سکے ۔
نہ کہ ایک واقع کے بعد ڈی پی او ،ڈی سی کو عہدے سے ہٹادے۔
اور خود نااہلی کیساتھ بیٹھے رہے اور پھر نعرہ ریاست مدینہ کا لگائے اور ہاتھ میں تسبیح رکھے۔
“تسبی پھری دل نہ پھریا کی لینا تسبی پھڑ کے ہو
علم پڑھیا تے ادب نہ سکھیا کی لینا علم پڑھ کے ہو
چلے کٹے تے کجھ نہ کٹھیا کی لینا چلیاں وڑ کے ہو
جاگ بناں دُدھ جمدے ناہیں باہو بھانویں لال ہوون کڑھ کڑھ ہو”

خدارا! عوام پہ رحم کرے ،ایمان داری سے ایک اکائی بن کے پاکستان کو عظیم تر بنائیں!
کم از کم قوم تو بن سکے!
فیض احمد فیض لکھتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والوں کو اس سرزمین سے محبت اور اس پر افتخار کرنا سیکھنا چاہیے !
اس سب میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے بجائے کہ ہمدردی کے لیے تصویر کا ایک رخ دکھائے، حقائق بیان کرے ،جو تلخ ضرور ہونگے لیکن اسکے اثرات دیر پا ہونگے۔سوشل میڈیا پہ ایک سٹوری وائرل ہوتی ہے اور سارا دن ویلی عوام اسکو شئیر کر رہی ہوتی ہیں ۔

“ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے؟

کالم نگار؛ ملک ریاض

You might also like