وہ ظلم نہیں بھولے،وہ شہادت نہیں بھولے

وہ ظلم نہیں بھولے،وہ شہادت نہیں بھولے
معصوم فرشتوں کی عبادت نہیں بھولے
بارود کےشعلے وہ تڑپتے ہوئے بچے
ہم لوگ ابھی تک وہ قیامت نہیں بھولے

پانچ برس پہلے 16 دسمبر کو طلوع ہونے والا آفتاب جو 144 پھولوں کی شہادت سے غروب ہوا۔ 16 دسمبر 2014 ایک ایسا د‌ن جو یہ قوم کبھی نہیں بھول سکتی۔ وہ دن جب اس قوم کے معصوم معماروں کو لہولہان کر دیا گیا۔ یہ وہ دن تھا جب اس بدقسمت قوم نے پھولوں کے شہر سے 144 پھولوں کے جنازے اٹھائے۔ یہ وہ دن تھا جب بزدل دشمن نے علم کی شمع کو بجھانا چاہا۔اس سانحے کو تو 5 برس مکمل ہو گئے مگر اس کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹے کھوئے، وہ آج بھی اپنے جگر گوشوں کی راہ تکتی ہیں۔ وہ‌ بہنیں جنہوں نے اپنے بھائی کھوئے وہ‌ آج بھی ان کو یاد کر کے روتی ہیں۔وہ مائیں پکارتی ہیں کہ
کوئی بتادے لال کا میرےتھا کیا قصور
سکول اس کا جانا ہی کیسے خطا ہوا
بےشک شہید مرا نور نظر مگر
وہ بن ملے ہی ماں سے ہے جنت گیا ہوا
اے کاش ظالمو تمہں احساس ہو سکے ماؤں کی زندگی میں جو محشر بپا ہوا
اور پھر وہ ٹیچر جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بیٹے کی زندگی چھین لی گئی اور پھر اس استاد ماں کی ہمت نے بزدلوں کو تب للکارا جب سکول کے کھلتے ہی وہ اسی سکول میں اپنے فرائض سر انجام دینے پہنچی۔ بزدل دشمن کا مقصد تو ہمیں توڑنا تھا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ وہ سانحہ ہے جس کے بعد ہم ہجوم سے قوم بن گئے۔ اس سانحہ کے بعد نہ تو ہم پنجابی رہے نہ سندھی، نہ ہم میں کوئی بلوچ رہا نہ پٹھان اس دن کے بعد ہم صرف پاکستانی بن گئے۔ ان معصوم پھولوں کی شہادت نے اس قوم کو متحد کر دیا اور پھر اقوام عالم گواہ ہے کہ اس سانحے کے بعد کس طرح ہم نے دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کر دیا۔ پاک افواج نے کس طرح پاکستان کو پر امن بنانے کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ بدقسمتی سے آج ہم پھر قوم سے ہجوم بن رہے ہیں۔ لیکن آج یہ عہد کرنے کا دن ہے ہم ان معصوموں کی قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں گے۔ آج بزدل دشمن کو للکارنے کا دن ہیں۔ آج اسے بتانے کا دن تم نے تو ہمیں ڈرانہ چاہا لیکن دیکھ لو کہ اس وطن کی ماؤں کے حوصلے آج بھی بلند ہیں وہ سکول جسے ویران کرنا تمہارا خواب تھا وہ آج پہلے سے زیادہ آباد ہے۔

بچے سکول جائیں اور واپس نہ آئیں
اے اللہ ایسا دسمبر پھر کبھی نہ آئے

میمونہ شاہد

You might also like