Decision By Punjab HighCourt

پنجاب ہائی کورٹ میں کئے  جانے ایک فیصلے نے پورے ملک میں جیسے ہلچل سی مچا دی ۔ پنجاب ہائی کورٹ کی جانب سے سابق  وزیر اعظم  میاں محمّد نواز شریف کی ضمانت   کو منظور کر لیا گیا ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان پہ میاں محمّد نواز شریف نے (3) مرتبہ حکومت کی ۔ شریف خاندان کا شمار ملک کے رئیس خاندانوں میں ہے ۔ شریف خاندان  میں ہمیشہ سے  خاندانی سیاست کا رواج رہا ۔ جیسے سلطنت  باپ سے بیٹا اور پھر پوتے کے سپرد کر دی جاتی ہے ۔  لیکن پانامہ کیس کھلتے ہی  کرپشن کرنے والوں اور قومی سرمایا کھانے والوں میں ایک بڑا  ہاتھ ن لیگ کا ہے  ۔  باؤ  جی پر کیس دائر ہوا اور انھیں جیل کی ہوا کھانی  پڑی ۔ لیکن اس میں یہ شرط رکھی گئی کہ  ملکی سرمایا واپس کرنے پر سزا معاف کر دی جائے گی ۔ مگر باؤ  جی اور انکی شہزادی نے خاندانی عزت بچانے اور قوم کی ہمدردی لوٹنے کے لۓ محلوں سے نکل کر جیل جانا مناسب سمجھا ۔ قوم بیشک جو مرضی کہے  اس سے  پاکستان میں کسی کو خاص  فرق نہیں پڑتا۔  لیکن بہرحال یہ  تو ملک اور قوم کے سرمایے پر اپنا حق سمجھے بیٹھے تھے ۔ جیل میں باؤ جی چلے تو گۓ  لیکن وہاں انکی  صحت برقرار  نہ  رہ سکی کیونکہ قانون بھی غریب کے لئے  اور ٹھنڈے بستر پر سونا بھی انھی کے لئے ہیں ۔ ان امیروں سے محلوں سے نکل کر جیل میں کہاں رہا جائے۔  اس دوران کلثوم بی بی بھی اپنی جان دے بیٹھیں ۔  میاں صاحب  کی علالت کی خبریں کافی عرصے سے سننے کو مل رہیں تھیں ۔ لیکن کچھ دن پہلے میاں صاحب کو ہسپتال منتقل کئے  جانے پر معاینے کے نتیجہ میں باؤ  جی کو سخت بیمار ٹھہرایا گیا اور وہ  اس دن سے ہسپتال میں ہی قیام پذیر  ہیں اور شہزادی کو عیادت  کے لئے  آزاد کر دیا گیا ۔ اخر ایسا ہے تو ہر مجرم کے لئے قانون ایک جیسا کیوں نہیں ۔  کیوں جیلوں میں مجرم قتل کئے  جاتے ہیں ۔ ہر کسی کو علاج کے  لئے  پھر کیوں نہیں بھیج دیا جاتا۔  قانون صرف غریب کے لئے ہے کیا یہ ہے نبی (PBUH) کا اسلام  کیا یہ ہے عمر کا سکھایا ہوا قانون ؟ نواز شریف کی صحت سے متعلق  یہ بھی کہا  جا رہا کہ  ڈاکٹر بھی  ان کا اپنا ہے  ۔  بابو کی بیماری پر منظور ہونے والی زمانت کے متعلق   بہت سے سوال اٹھاے جا رہی ہیں ۔ لوگوں کی ایک بڑی  تعداد اس کے خلاف جبکہ اکثریت اس سے متفق ہے ۔ کیا معلوم میاں صاحب لندن پہنچ کر دوڑنے لگیں یہ بخار صرف جیل کا ہو چونکہ اخر بہت کیا انتظار لیکن خود بھی باؤ جی  سوچتے ہوں گے خودی کچھ کریں کیوں کہ ہمدردی تو  کسی کام آ نا سکی  .  .   باوثوق  زراءع  کے مطابق یہ بھی معلوم پڑا کہ اربوں ڈالروں کی ڈیل ہونے پر میاں کو رہا کیا جا رہا ہے ۔ مگر یہ بات کس ممکنہ حد تک سچی ہے  تا حال اس کے بارے  میں کچھ معلوم نہیں۔   کیا معلوم یہ بات صرف ہوا میں  چھوڑی گئی  ہو ۔ اخر سوشل میڈیا اس قدر وسیع ہو چکا ہے کے اس میں جھوٹ  سچ کی ایک بھجیا سی بن جاتی  ہے۔  کیا معلوم کس بات پر کان دھرنے چاہیے اور کس پر نہیں ۔ سب ایک سا ہی ہو گیا ہے۔  ایک بڑی  بات پہلے یہ ہوتا تھا پی پی اور لیگی سیاست باری بری آتیں اور جو جیتا مولانا اسکا ۔ ویسے ہر بار جس کی حکومت ہوتی اسے مولانا کا ساتھ حاصل کرنے میں کوئی دقت  نا پیش آتی ۔ مگر اس بار کچھ الگ ہوا ۔ حکومت ہے تیسری اور مولانا صاحب کے پاس کچھ نا بچا ۔ بچا تو دھرنا جسکی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں ۔ اور تیاریوں کے لئی  مولانا باقی پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے میں تھوڑا مصروف ہیں ۔اس بات کا بھی ایک بہت برا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کے میاں کی رہائی حکومت کے لئے  بری نہ ثابت ہو ۔ یعنی  مولانا کا ساتھ ۔ شریف خاندان خود خاندانی سیاست کی لالچ میں چور  ہے ۔ جیسے عثمانیہ سلطنت میں تخت کے لئے باب بیٹے بھائی یا پوتے جیسے کوئی رشتہ معنی نہیں رکھتا ۔ ن لیگ کی بادشاہت ایک عرصے سے بابو کے پاس ہے  جس کا ولی عہد  ابھی تک نامعلوم اور امیدواروں کا ایک طوفان ہے۔  باؤ  کو زہر شہزادی  نے نہیں تو کیا چھوٹے باؤ نے یا پھر کس نے  دلوایا ۔ کیونکہ وجہ تو سب کے پاس ہے ۔ اقتدار کی بھوک ہی کچھ ایسی ہے ۔ بہرحال اگر جیل کی سلاخوں کے پیچھے میاں کو کچھ ہوتا ہے تو الزام کپتان پر بھی اتا ہے ۔ اور ایسے میں علاج کی سہولت انھیں مہیا کرنا لازمی ہیں ۔ لیکن اصل میں موت برحق ہے پھر  کس کو کہاں  آے  کوئی اسکا زمیدار  نہیں ہوتا ۔عوام کا یہ بھی کہنا ہے کے بار بار اقتدار ملنے کے  باوجود میاں وہ  کچھ نا کر پاۓ ۔  مگر حقیقت تو یہ ہے آج تک کوئی بھی کچھ خاص نا کر سکا ۔ لیکن امید پر دنیا قائم ہے ۔   

(حریم کیانی )

You might also like