پاکستان میں صحافت کا قتل

بڑے صاحب عمر کے لحاظ سے پچاس کے پیٹے میں ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے  صحافی تھے۔اب اس بے روزگار صحافی کے لیے ’تھے‘ اور ’ہیں‘ میں فرق کرنا یقیناﹰ مشکل ہے۔بالوں اور داڑھی میں چاندی اتر آئی ہے۔ کل تک صحافتی اقدار سنبھالے ملکی بد حالی پر زور شور سے بات کرتے تھے مگر آج  اپنے مالی حالات کی پریشانی کی سبب چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ اور کہیں بھی تو کس سے؟ کون ہے سننے والا؟

کون جانتا ہے یہ کہ صحافی کا پیٹ خبر سے نہیں بھرتا۔۔۔اسے بھی پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے روٹی کی ہی بھوک لگتی ہے۔ کیا آپ یہ جانتے ہیں؟ کہ صحافی بھی ایک انسان ہوتا ہے۔اسکا بھی گھر اور اہل وعیال ہوتے ہے۔ اسکے گھر میں بھی بوڑھی ماں ہاتھ میں تسبیح لیے دعائیں مانگتی بیٹے کی واپسی کی منتظر ہوتی ہے۔اسکے ہاں بھی بیٹیاں، شادیاں، جہیز، تعلیمی مسائل، اور اخراجات ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ یہ بات ان فیصلہ سازوں کو سمجھ میں نہیں آتی جو طاقت کے نشے میں میڈیا مالکان اور اداروں پر وہ قدغن لگا بیٹھے کہ اب صحافی دو وقت کی روٹی سے بھی آرزو بیٹھے ہیں۔

ویسے تو صحافت کو مملکت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے اور کسی بھی آزاد معاشرے کی آزادی پرکھنے کازریعہ آزاد میڈیا ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندر میڈیا کی آزادی کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جیسا خود مملکت خداداد کی اپنی تاریخ۔ اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے پاکستان میں سینیئر صحافیوں اور اہل قلم نے بڑی بڑی قربانیاں دیں ہیں۔

اب ان قربانیوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔ ملک کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہر خاص و عام صحافی اپنی کرسی مضبوطی سے تھامے بیٹھا ہے، کہ کہیں اب اس پر چھری نہ چل جائے۔ دوسری جانب چینل مالک مجبور ہیں کیونکہ بجٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں یا تو ملازمین کو نوکری سے نکالنا ہے یا پھر ان کی تنخواہیں کم کرنی ہیں۔

یہ دور صحافت کے لیے آسان نہیں ہے، ویسے تو صحافیوں کو ہر دور میں ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن حالیہ میڈیا بحران کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شعبہ صحافت اور ماس کمیونیکیشن کےطلبہ کی پریشانی کچھ زیادہ اس لیے بڑھ گئی ہے کیونکہ مایہ ناز صحافیوں کے لیے بھی روز گار کے مواقع محدود ہوگئے ہیں۔ جہاں پیشہ ور صحافی کم پیسوں میں زیادہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں تو وہاں نئے لوگوں کے لیے جگہ بنانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ لہذا جو صحافی گزشتہ دہائی سے قبل کے میڈیا  ‘ایکسپلوژن’ کے زمانے میں اچھے حالات دیکھتے ہوئے صحافت کے پیشے میں آئے تھے اب وہ کافی زیادہ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ ایسے ہی چند صحافیوں نے اپنے مخدوش مالیاتی مستقبل کو دیکھتے ہوئے نئے آنے والوں کو صحافت کا پیشہ اختیار کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے کا مشورہ دیا ہے۔

پاکستان میں حکومت اور صحافیوں کے درمیان تعلقات آزادئ اظہار کو لے کر اکثر کشیدہ رہے ہیں۔ صحافی ایک عرصے سے سرکاری اداروں کی جانب سے سینسر شپ کی شکایت کرتے آئے ہیں۔ اس شکایت میں پچھلےسال 25 جولائی کے عام انتخابات سے قبل خصوصاً اضافہ سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پر کھل کر ریاستی اداروں پر کڑی تنقید کو دبانے کی کوششیں بھی اسی سینسر شپ کا حصہ قرار دیا جانے لگا۔

زیر عتاب صحافیوں کو نشانہ بنانے کا عمل تسلسل سے جاری ہے۔ سرکاری بیانیے کی مخالفت کرتے نیوز چینلز کو کیبل پر آگے پیچھے کر کے اور اخبارات کی ترسیل اور اشتہارات کی تقسیم پر اثرانداز ہو کر مخالف سمجھی جانے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہے ہیں۔

روزِ اول سے بار بار احتساب کے نام پر سیاسی جماعتوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا بڑا مقصد یہی رہا ہے کہ لوگوں کا جمہوری عمل پر اعتماد نہ رہے۔

مجبوریاں سب کی ہوتی ہیں۔ میڈیا مالکان کو ملک، قوم، جمہوریت جیسی باتوں سے زیادہ اپنی کاروباری سلطنت کی فکر ہوتی ہے۔ اینکر کہتا ہے کہ سچ کیا، جھوٹ کیا بس شو چلتا رہے۔ صحافی کی خواہش ہوتی ہے جیسے تیسے بس نوکری لگی رہے۔ ہم میں سے کچھ راضی خوشی ریاستی پروپیگینڈے کا اوّلین دستہ بن جاتے ہیں تو کچھ کڑھتے دل کے ساتھ جس قدر ممکن ہو اصلاح کی کوشش میں لگےرہتے ہیں۔

پاکستان میں صحافت کے گورکھ دھندے کے پرانے پاپی کہتے ہیں کہ آگے بڑھنا ہے تو لچک رکھنی چاہیے۔ سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ جب یہ فیصلے آپ کے نہ رہیں کہ کس کو لائیو دکھانا ہے، کس کو نہیں، کون سے لوگ ٹی وی پر آ سکتے ہیں، کون نہیں۔ کس کا کالم شائع ہو سکتا ہے، کس کا نہیں۔ کون سی بات کہہ سکتے ہیں کون سی نہیں، تو پھر کیا باقی رہ جاتا ہے؟ کون سی صحافت، کیسی اظہار آزادی کہ جس پر لوگ تھوڑا بہت بھی اعتبار کر سکیں

کیا اس سب  کی وجہ نئی حکومت کی نئی پالیسی ہے یا پھر یہ میڈیا ہاؤسز کی ناقص کاروباری حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس نے میڈیا انڈسٹری کو اس مشکل سے دوچار کر دیا ہے جسے وہ ایک عرصے سے دعوت دے رہے تھے یا انہیں انتخابی نتائج کے ساتھ ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اب فری فنڈ کے مزے زیادہ دن جاری نہیں رہ سکیں گے۔ لیکن میڈیا ہاؤسز کے مالکان نے اپنے نفع میں نقصان کے دن آتے دیکھ کر بھی ملازمین کو برطرفیوں کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کا عندیہ دینے سے گریز کیا ۔

حکومت نے ٹی وی چینلز کی سرکاری اشتہارات کے ریٹس کی ایک فہرست جاری کی ہے ۔کچھ چینلز ایسے بھی ہیں جن کے اشتہاری ریٹ ڈیڑھ لاکھ روپے فی منٹ سے کم کرکے دس ہزار روپے مقرر کر دیے گئے ہیں۔


وزیر اعظم عمران خان کی میڈیا مالکان اور معروف صحافیوں سے ہونے والی ملاقات بھی میڈیا کے بحران کو حل کرنے اور سرکاری اشتہارات کھولنے کی بات کی گئی تھی لیکن حکومت کی جانب سے یہی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت میڈیا ہاؤسز کے 80 فیصد اخراجات برداشت کرنے کے لیے سرکاری اشتہارات دینے پر آمادہ نہیں ہے

کچھ صحافیوں کا خیال ہے کہ پاکستانی میڈیا پر ایک نادیدہ قسم کی سنسر شپ عائد ہے جس کی وجہ سے بعض مشتبہ لوگوں کی گمشدگیوں اور پختون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں اور ایسے ہی کچھ متنازعہ موضوعات پر لکھنے اور بولنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ متنازعہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اٹھارہ غیر ملکی این جی اوز کے آپریشنز بند کیے جا چکے ہیں لیکن نادیدہ سینسر شپ کا رونا رونے والے صحافیوں نے اس بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

 ویب میڈیا فی الحال شوقیہ انداز میں چل رہا ہے اور لوگ انفرادی طور پر اپنے دوستوں اور جاننے والوں کی مدد سے ایسی ویب سائٹس چلا رہے ہیں لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ایسی ویب سائٹس مستقبل میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوں گی۔

You might also like