قانون دانوں کے ہاتھوں قانون کی دھجیاں

ہر طرف خون کی ندیاں بہ رہی ہیں۔ ہر شخص قانون اپنے ہاتھ میں لیۓ اپنے بھائی کا قتل عام کر رہا ہے۔چاروں جانب  افراتفری سی مچی ہوئی ہے ۔ یوں محصوص ہو رہا ہے کہ شاید میں مستقبل کو بہت قریب سے دیکھ رہی ہوں ۔ گزشتہ روز    لاہور میں  ایک دل دہلا دینے والا واقعہ راونماء ہوتا دکھائی دیا ۔ کچھ عجب نوعیت کا واقعہ جس کا غم  آج پوری قوم کو ہے۔  گزشتہ روز لاہور میں  پنجاب ہسپتال کے کارڈیولوجی  وارڈ میں  ایک قیامت خیز منظر تھا ۔ بلکل 1947 جیسا سماء تھا ۔ ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے پاکستان پھر سے آزاد ہو رہا ہے۔   یہ تنازع دو ان پڑھوں کے درمیان نہیں بلکہ ایک طرف کابل ڈاکٹروں اور دوسری طرف قانون دانوں یعنی وکلاء کی ایک بھاری  فوج کے درمیان پیش آیا ۔ جو انتہائی توڑ پھوڑ اور کئی  مریضوں کے لئے جانلیوا ثابت ہوا ۔ ایسا واقعہ شاید ہی کبھی پیش آیا ہو ۔ اور شاید مغرب کو اس قوم کے خلاف ایک اور موضوع بھی مل گیا ہو  . ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وکلاء کی ایک بری تعداد ڈاکٹر کو چیلنج کرتی دکھائی دے رہی تھی ۔ اور کچھ ہی دیر میں سیلاب کی طرح وکلاء کا ہجوم لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف  کارڈیالوجی  وارڈ میں آتا دکھائی دیا۔  جنہوں نے آتے  ہی توڑ پھوڑ کرنا شروح کر دی اور کارڈیولوجی وارڈ جہاں پہلے ہی دل کے مریض زیر علاج تھے  ان میں سے کچھ کے دل یہ سب برداشت نا کر سکے  اور اس نے انکے جسد خاکی  کا ساتھ چھوڑ گیۓ ۔ اس طرح یہ واقعہ جانلیوا بھی ثابت ہوا ۔ وکلاء کی جانب سے کی جانے والی ایک ہٹدھرمی یہ بھی تھی کہ انہوں نے آپریشن تھیٹر بھی خالی کروا دیے ۔ یہاں تک کہ انتہائی  نگہداشت وارڈ کے مریضوں کی آکسیجن بھی اتار دی گئی  جس سے وہ  اپنی جان سے  دھو بیٹھے ۔ جس سے ہمارے قانون دان مجرم ثابت  ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ وکلاء  معاشرے  کے وہ  عزت دار لوگ کھلے جاتے ہیں جن پر ملزم اعتبار کر کہ اپنا مقدمہ کسی مجرم کے خلاف دائر کرتا ہے ۔ ہر ملزم کی امید جن قانون دانوں پر ہوتی ہے ۔ آج وہی مجرم بن چکے ہیں۔  اور یہی ہماری قوم کی اصلیت ہے۔  یہی وجہ ہے کہ آج قانون لوگوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ اور یہ معاشرہ جراءم  کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ کیوں  کہ عدالتوں کی اس قدر بدانتظامی کی وجہ  لوگوں کا اعتبار عدالتوں سے اٹھتا جا رہا ہے ۔ لیکن اب ان لوگوں سے آخر  کسی  قسم کے انصاف کی تواقع کی جائے  ۔ آے دن ایسے بیشمار واقعات پیش آتے  ہیں ۔ جن کے مطلق   یہ کہا  جاتا ہے کہ لوگوں میں اس قدر نفرت آخر کہاں سے آ جاتی ہے ۔ لوگ اپنے ہاتھ میں قانون کیوں لے لیتے ہیں ۔ پر میرے خیال میں اب ان کو کچھ کہنا بیکار  ہوگا ۔ اس سے پہلے ہمارے عدالتی نظام کی درستگی انتہائی ضروری ہے ۔ آج اس قوم کے وکلاء خود ہی مجرم بن چکے ہیں ۔ دوسری جانب اگر  نگاہ ڈاکٹروں کی جانب دہرائی  جائے تو یہ معاشرے کے وہ  لوگ ہیں جن پر آنکھ بند کر کے میں آپ یہاں تک کہ ہر شخص  یقین کر لیتا ہے ۔ لیکن آج یہی ڈاکٹر آپ کو اپنی غفلت کی وجہ سے  مریضوں کی غلط رپورٹس انکے جسمانی آعزا فروخت کرنے جیسے جرایم انجام دیتے  دکھائی دیتے ہیں ۔ کبھی استاد شاگرد کا قاتل معلوم ہوتا ہے تو کبھی شاگرد کے ہاتھوں پٹتا دکھائی دیتا ہے ۔ اور وکلاء نے تو اس سے بھی زیادہ انتہا کر دی ہے ۔ بھلا ایسے معاشرے  کی ترقی کیسے ممکن ہے  ؟لاہور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی وارڈ میں رونوماء ہونے والے سانحے میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھ جانے والے  لوگوں کی کیا کوئی اہمیت نہیں تھی ؟ انکے ورثاء سے جا کہ کوئی انکی قدر و قیمت پوچھے ۔ کیا یہ وکلاء ان لوگوں کی موت کے ذمہدار نہیں ہیں ۔ اگر یہ سب اسی روانگی سے چلتا رہا تو واقعی میں اس ملک کے ہر کونے میں جلد خون کی ندیاں بہتی  دکھائی دیں گی ۔ خدا ہم سب کو راہ ہدایت نصیب  فرماے ۔ اور اس ملک میں امن کا بول بالا کر دے ۔ (آمین)     .  .  .  .  .  .  .    .  .  .  .  .  .  .  . (حریم کیانی )

You might also like