بحثیت قوم کہاں ہیں ہم؟

بحثیت *قوم* کہاں ہیں ہم؟ ہم نے شاید اس سوال کو جواب جاننے کی کوشش ہی نہیں کی ورنہ ہم آج *ترقی پزیر* ممالک سے *ترقی یافتہ* ممالک کی صف می‍ں شامل ہو چکے ہوتے۔  ہم وہ قوم ہیں جو بہتر سال پہلے بغیر جنگ کے ہندوؤں اور انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کر کہ دنیا کی پہلی پر امن ریاست تو قائم کر سکتے ہیں لیکن بہتر سال بعد بھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ پاتے۔ ہم ہمیشہ اپنی پستی اور ہر ناکامی کا ذمہ دار حکومتوں کو ہی گردانتے ہیں۔ ہم یہ تو کہتے ہیں کہ حکمران  کچھ نہیں کرتے لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ حکمرانوں کو اس منصب پر فائز کرنے والے بھی ہم ہی ہیں آج تک ہم اس شخص کو نہیں پہچان سکے جو بغیر کسی ذاتی مفاد کے ملکی مفاد میں کام کر سکے تو ہمیں سسٹم کو برا بھلا کہنے کا بھی حق نہیں رکھتے۔ ہم اگر یہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک اور عرب ممالک صفائی میں اپنی مثال آپ ہیں اور پاکستان کی حکومت پاکستان کو صاف کرنے  میں ناکام ہیں لیکن ہم یہ بات تسلیم کرنے پر رضامند نہیں کہ یہ کچرا پھیلانے والے بھی ہم ہیں۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ افسران رشوت خور ہیں تو ہمیں یہ ماننے کی بھی ضرورت ہے کہ انہیں رشوت کھلانے والے بھی ہم ہی ہیں۔ اگر ہم سسٹم بدلنا چاہتے ہیں تو اس کہ لئے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا کیونکہ ملکوں کی تقدیر حکمران ‌نہیں اقوام بدلتی ہیں۔ ہم اپنا مقصد اور اپنی منزل تب تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم اپنے حصے کی ذمہ داری نہ اٹھا  لیں۔ کیونکہ؎ شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا کہ اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔

میمونہ شاہد

You might also like