صحت کے میدان میں آزمائش۔۔۔

بیسویں صدی کے آغاز پر تقریباً تمام ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک پولیو جیسی مہلک بیماری کی زد میں تھے۔ جس کے باعث ہر سال ہزاروں بچے اس بیماری کے باعث چلنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے لیکن 1950 اور 1960 کی دہائی میں طبی ماہرین نے ایسی ویکسین ایجاد کی جس کی مدد سے اس وائرس پر قابو پایا جانے لگا۔ 2011 تک اس بیماری میں 99 فیصد تک کمی آئی اور جہاں 350 کیسز سامنے آتے تھے وہاں یہ کم ہوکر صرف 6 رہ گئے۔ 2018 میں یہ بیماری پاکستان، افغانستان اور نائجیریا کے کچھ علاقوں تک محدود رہ گئی۔
خدشہ ہے کہ اگر پاکستان میں اس بیماری پر قابو نہ پایا جا سکا تو یہ کچھ علاقوں سے نکل کر پورے ملک میں پھیل سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے تین اضلاع میں پولیو کیسز سامنے آئے ہیں۔ وزیر صحت خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آنے والے مہاجرین کے باعث یہ بیماری یہاں پروان چڑھ رہی ہے اس سے بچاؤ کے لیے حکومت افغانستان کو بھی ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔

احتشام الحق
You might also like