مذہبی رواداری اور قوانین

بروز جمعہ ناروے میں ہونے والے سانحہ نے مسلم امہ کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ناروے میں سرعام ایک شخص نے قرآن پاک کو (نعوذ باللہ) جلانے کی کوشش کی جس کو الیاس نامی با ہمت نوجوان نے ناکام بنا کر امت مسلمہ کا دل جیت لیا۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کب تک اظہار راۓ کے نام پر دنیا مسلمانوں کے جزبات مجروح کرتی رہے گی؟ لیکن سوال تو مسلمانوں اور ناموس رسالت ﷺ اور قرآن مجید کی تحفظ کے علمبرداروں پر بھی اٹھتا ہے کہ انہوں نے ان واقعات کی روک تھام کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟ کیا اب بھی مسلم امہ ان واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی عملی اقدامات کرے گی یا ہم صرف ان سانحات کے رونما ہونے کے بعد مفاد پرستی کے نشے میں اپنی حکمت عملی صرف مزمتی بیانات تک ہی محدود رکھیں گے؟؟
میمونہ شاہد

You might also like