!ایک دن سہیل وڑائچ کے ساتھ

لائیو: کبھی سوچا تھا کہ زندگی میں اتنا عروج پائیں گے کہ لوگ سہیل وڑائچ کو نام سے پہچانیں گے ؟ سہیل وڑائچ :عروج تو خیر کسی کو بھی نہیں ملتا بس ہر کوئی کوشش کرتا ہے ، محنت کرتا ہے ،عروج اور زوال کا تو دنیا میں کوئی پیمانہ نہیں بنا ، میں جب بھی اپنے آپ کا تجزیہ کرتا ہوں تو اپنے آپ کو بہت پیچھے دیکھتا ہوں ۔۔اس لئے ہر روز زیادہ سے زیادہ محنت کرتا ہوں !
لائیو: مختلف انداز اور شائستگی سے سوال کرنے کا فن کہاں سے سیکھا ؟
سہیل وڑائچ : اس میں میری تربیت کا بھی رول ہے ، پسِ منظر کا بھی اور یہ میری شخصیت کا حصہ ہے کہ میں اس انداز سے ہی بات کرتا ہوں ۔۔
لائیو: ہم نے سنا ہے آپ صبح جلدی جاگنے والوں میں سے ہیں،ہمیشہ سے یہی عادت رہی ہے یا وقت کے تقاضوں کے ساتھ روٹین بھی تبدیل ہوئی؟
سہیل وڑائچ :میرا تعلق دیہات سے ہے اور دیہات میں لوگ جلدی اٹھتے ہیں ۔۔ میں بھی جلدی اٹھتا ہوں اور اپنے زیادہ تر کام صبح اٹھ کر کرتا ہوں لکھتا بھی صبح ہوں مطالعہ بھی صبح کے وقت کرتا ہوں رات کو جلدی سوتا ہوں صبح کے وقت میری اینرجی زیادہ ہوتی ہے اور شام کو ماند پڑنا شروع ہوجاتی ہے ۔۔
لائیو:اکثر اینکرز کو دیکھا گیا ہے کہ وہ بار بار چینل تبدیل کرتے ہیں مگر آپ نے ایک ہی بار ایسا کچھ کیا؟
سہیل وڑائچ : ہاں اور وہ بھی ناراض ہوکر کیا ۔۔
لائیو: قناعت پسندی کو آپ کی شخصیت کا دوسرا پہلو کہیں گے ؟
سہیل وڑائچ :قناعت پسندی اچھی چیز ہے ہونی چاہیے ہم اتنے تو خیر قناعت پسندنہیں جتنے ہمارے بزرگ تھے پر یہ اچھی عادت ہے اس سے آپ مطمئن رہتے ہیں ،اس سے آپ کے اندر لالچ کم پیدا ہوتا ہے اس سے جب آپ اپنے اوپر والوں کو دیکھتے ہیں تو حسد نہیں ہوتا اور اگر نیچے والوں کو دیکھیں تواحساسِ طمانیت ہوتا ہے ۔۔
لایئو:ویسے تو آپ بہت دھیمے لحجے کے مالک ہیں ، لیکن آپ نے بتایا آپ نے چینل ناراض ہوکر چھوڑا تو کیا وجوہات بنیں ؟
سہیل وڑائچ : بس وہ عام طور پر ہوتا ہے نا جب آپ سےکوئی باتیں طے کی ہوئی ہوں کچھ وعدے کئے ہوئے ہوں اور وہ پورے نہ ہوں تو پھر مشکلات پیداہوتی ہیں ۔۔بس ایسی ہی کوئی وجہ تھی ۔۔
لائیو:آپ تجزیہ بہت اچھا کرتے ہیں ہمیں یہ بتائیںعوام آجکل جس قسم کی مشکلات سے دوچار ہیں ان سے کب باہر آجائیں گے ؟؟
سہیل وڑائچ : دیکھیں یہ تو عوام کا ہی فیصلہ ہے کہ کب باہر آتے ہیں ،مجھے ویسے لگتا ہے کہ دسمبر تک تو یہ اس طرح ہی چلتا رہے گا اور پھر اگر معاشی پالیسیوں کے اثرات اچھے رہے تو مزید اسی طرح حکومت چلے گی لیکن اگر اثرات اچھے نہ ہوئے جس کا اس وقت زیادہ امکان لگ رہا ہے ، پھر مجھے لگتا ہے کہ ایک سنگین چیلنج ہوگا حکومت اورعوام کے لئے۔۔
لائیو:آپ کااب تک کا یادگار انٹرویو کونسا تھا ؟
سہیل وڑائچ : ہزاروں انٹرویو کئے ہیں کچھ پرنٹ کے لئے 500 کئے ہونگے اور 600 الیکٹرانک کے لئے ۔۔ اور سب سے یادگار جو ہے وہ ابھی کرنا ہے ۔۔
لائیو:پاکستانی میڈیا کے ابتک کے کردار سے آپ کتنا مطمئن ہیں ؟
سہیل وڑائچ :میرا خیال ہے میڈیا نے کافی حد تک لوگوں کے شعور کو بیدار کیا ہےسیاست کے حوالے سے سماجی حوالے سے لیکن جتنی سماجی بیداری لانے کے ضروت تھی وہ اب تک نہیں لا سکے اور دوسرا یہ جو ان کی آپس کی لڑائیاں ہیں ان سے شعور کو نقصان پہنچا ہے ، اگر یہ معاشرے کی ایشوز پر فوکس کریں ، وہ ایشوز جن کے اوپر اتفاقِ رائے ہے اگر ان پر فوکس کرتے تو تبدیلی اب بھی آئی ہے اورزیادہ بھی آسکتی تھی۔
لائیو:پہلے پرنٹ اور پھر الیکٹرانک اور اب سوشل میڈیا پر بھی آپ کی وابستگی ہوگئی ہے ان سب کو آپ کیسے مینیج کرتے ہیں ؟
سہیل وڑائچ :ہم جو چھوٹے کلمکار ہوتے ہیں ان کو بس اپنی آواز پہنچانی ہوتی ہے چاہے وہ قلم کے ذریعے پہنچائی جائے یا میڈیا کے ذریئے پہنچے۔ہم بھی ان شاعروں کے طرح ہیں جو اپنا کلام سنا کرخوش ہوتے ہیں ۔ہم بھی کچھ لکھتے ہیں تو بس خواہش یہی ہوتی ہے کہ لوگوں تک پہنچے اور وہ اتفاق کریں یاتنقید کریں ۔۔کوئی بھی ردعمل دیں بس ! اس کے لئے جو بھی میڈیم ملے مینیج کر لیتے ہیں ۔
لائیو:فیملی کے ساتھ کیسے وقت گزارتے ہیں ، زیادہ تر مصروفیات کیا ہیں ؟
سہیل وڑائچ : میرا زیادہ تروقت فارغ گزرتا ہے،میں جب ریکارڈنگ نہیں کر رہا ہوتا تو گھر پر ہوتا ہوں میری لائیبریری میرا کنجِ پناہ ہے،کنجِا آفیت ہے۔۔ باقی ایک بیٹا ہے اور بیوی کے ساتھ وقت گزارتا ہوں پرندے ہیں میرے پاس ان کے ساتھ وقت گزارتاہوںبڑھاپے کی طرف گامزن ہوں تو بس پرندے پال لئے ہیں کہ بڑھاپے میں دل بہلائیں گے ۔
لائیو:آپ کی تحریر میں سٹائر ہوتا ہے اس کی انسپائریشن کہاں سے آتی ہے ؟
سہیل وڑائچ :کہیں نا کہیںہر کسی کے اندر اس طرح کا کوئی چھپا بیٹھا ہوتا ہے آپ نے ایسپلور کرنا ہوتا ہے میں نے جو اپنے زندگی کا پہلا مضمون لکھا تھا جب میں انٹر میں تھا تو وہ بھی ایک سٹائر تھاتو پھر بہت عرصے کے بعد میں نے دوبارہ کوشش کی ہے ، ورنہ میں بڑے سنجیدہ تجزیے کرتا تھا بس یہ ابھی دوسال سے میں نے کام شروع کیا ہے جو ایک مکس ہے ، سٹائر کا ، ادب کا ، سیاست کا ،ہسٹری کا ۔۔ تو اب وہی اسٹائل بن گیا ۔

لائیو: آپ کی لائبریری بہت خوبصورت ہے کتاب سے تعلق بہت گہرا رہا ہے ؟
سہیل وڑائچ :بچپن میں ناول پڑھتے تھے پڑھتے پڑھتے یہاں تک پہنچ گئے کہ ایک گہرا تعلق بن گیا کتاب سے ۔۔
بچپن سے ہی کھیلوں سے دلچسپی نہیں رہی بس پڑھنے والا بندہ ہوں میں ۔۔
لایئو: پڑھنے والوں کے لئے کیا پیغام دیں گے ؟
سہیل وڑائچ : بس خوش رہیں اور زندگی میں ہر چیز کا شکر ادا کریں ۔

You might also like