میڈ یا پر قدغن

جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھاۓ مرگ ظلمت پہ
وہ نوحہ گر ہے خطرے میں, وہ دانشور ہے خطرے میں…
آج کا میڈیا جو آئین پاکستان کی رو سے آزادی اظہار کا مکمل حق رکھتا ہے اور عوام کے مسائل اعلی حکام تک پہنچانے اور عوامی نمائندوں کے کارنامے عوام تک پہنچانے کا واحد زریعہ ہے اس وقت شدید مسائل سے دو چار ہے. میڈیا کو موجودہ دور حکومت میں شدید پابندیوں کا سامنا ہے جس کی تازہ مثال حال ہی میں جاری ہونے والا PEMRA کا نوٹس ہے جس میں اینکرز کو اظہار راۓ کرنے اور کسی بھی اور پروگرام میں بطور تجزیہ نگار پیش ہونے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے. نہیں نہیں PEMRA نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ کسی بھی نشر یونے والے پروگرام میں بغیر PEMRA کی اجازت کوئ بھی شریک نہیں ہو سکتا. اور بات یہاں بھی ختم نہیں ہوئ بلکہPEMRA نے حکم جاری کیا ہے کہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے کی اجازت تب ہو گی جب آپ کی ڈگری اس موضوع کے مطابق ہی ہوگی. PEMRA کے اس آرڈیننس کو شدید تنقید کا تشانہ بنایا گیا جس پر PEMRA نے کچھ نکات پر یو ٹرن لے لیا. لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا موجودہ حکومت میں اپنے اوپر جائز تنقید برداشت کرنے کا بھی ظرف نہیں? کیا حکومت صرف اپنی تعریف کرنے اور اپنی جی حضوری کرنے والوں کو ہی بولنے کا حق دینا چاہتی ہے? اور اگر کسی بھی موضوع پر صرف اپنی راۓ دینے کے لئے اس موضوع پر ڈگری ہولڈر ہونا ضروری ہے تو پھر میں اور پاکستان کی عوام مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت اپنی کابینہ پر نظر ثانی کرے اور کسی بھی ادارے کو چلانے کے لیۓ اس کا سربراہ کا بھی اسی شعبے میں PH D ہولڈر ہونے کو یقیینی بناۓ. سائینس و ٹیکنولوجی کی وزارت کسی سائینس دان, وزارت اطلاعات و نشریات کسی سینئیر میڈیا ڈگری ہولڈر , وزارت صحت کسی ڈاکٹر اور سب سے اہم وزیراعظم کی کرسی تمام شعباجات میں ڈگری رکھنے والے کے سپرد کرے. اگر حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی اہلیت نہیں رکھتی تو صحافت کا قتل بند کرے اور دوسروں کے حق میں اٹھائی جانے والی آوازوں جا گلا نہ گھونٹے.
بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں
سوچتا ہوں یہ ناداں کس ہوا میں رہتے ہیں

میمونہ شاہد

You might also like