روبرو ۔۔ واسع چوہدری

اگر میں میڈیا پرسن نہ ہوتا تو بہت زور لگالیتا تو ایک تھکا ہوا “بینکر” ہوتا

سوال: چھوٹی سے عمر میں اتنا بڑا نام ، تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے کے پیچھے کیا راز چھپاہے؟

واسع: اتنی سی عمر بالکل بھی نہیں، میں مومنہ مستحسن نہیں۔۔ شروع بہت جلدی کردیا تھا۔۔ سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں اس کام میں دھکا پڑگیا تھا، باقی محنت جاری ہے۔۔

سوال: جس کام کو بھی پکڑا اسے بہت احسن انداز سے انجام دیا، پیشن اور پروفیشن  کو ایک ساتھ لے کر چلنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟

واسع:انجام اچھے طریقے سے دیا یا نہیں دیا، یہ ایک الگ بات ہے، آپ کے سوال پر آپ کا شکریہ ہی ادا کرسکتا ہوں،بہت سے لوگ اس سے اختلاف بھی کریں گے کہ میں نے اچھے طریقے سے انجام نہیں دیا، رہا سوال پیشن اور پروفیشن کا، وہ بھی  بس بائی ڈیفالٹ ایسا ہوگیا کہ پیشن ہی پروفیشن بن گیا ۔۔ یہی کررہے ہیں اور کرتے جارہے ہیں، بیس سال ہوگئے اس فیلڈ میں اور کچھ آتا ہی نہیں۔۔

سوال:جب آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ٹارگٹ کو آسان سمجھ کر کرتے ہیں یا پھر سنجیدہ ہوکر ساری توانائیاں خرچ کردیتے ہیں؟؟

واسع:ٹارگٹ کبھی بھی آسان نہیں لگتا، انسان بس کوشش ہی کرسکتا ہے۔سیلف میڈ انسان ہوں تو ہر کام خود ہی کرنا پڑتا ہے، ورنہ یہ ہے کہ نہ کریں، لیکن نہ کرنے والا آپشن کچھ مناسب نہیں لگتا،اس لئے کرنےمیں ہی بہتری پائی کہ کرلو ورنہ کچھ نہیں بننا۔

سوال: ایکٹر،پرڈیوسر،ڈائریکٹر یا پھر رائٹر، واسع چودھری کس جگہ خود کو آسان محسوس کرتا ہے؟

واسع:پرڈیوسر نہیں ہوں، ڈائریکٹربھی نہیں کیوں کہ ایک زمانے میں تھیٹر پر ڈائریکٹ کیاکرتا تھا ایک عرصہ ہوگیا اسے چھوڑ ا ہوا ہے۔اصل میں ، میں رائٹر کی طرح ایکٹ کرتا ہوں اور ایکٹر کی طرح لکھتا ہوں۔میرے خیال میں یہ صحیح رہے گا۔۔

سوال:الیکٹرانک میڈیا میں واسع چودھری نے مزاح کو نیا رنگ دیا، آپ کو اندازہ تھا کہ لوگ اس طرح آپ کو پسند کریں گے؟؟

واسع:میرا نہیں خیال کہ میں نے کوئی رنگ دیا، رنگ دینے والے بہت سے لوگ ہیں۔۔اصل میں مجھے یوں لگتا ہے کہ ہم سب ایکسٹینشنز ہیں۔۔ الیکٹرانگ میڈیا کے حوالے سےاگر کریڈٹ دیا جائے تو وہ جاتا ہے شعیب ہاشمی صاحب کو۔۔شعیب ہاشمی سے شروع ہونے والے سلسلے کو آگے چل کر انورمقصود صاحب نے پکڑ لیا۔۔انورمقصود صاحب سے یہ سلسلہ آگے چلا تو سن چھیانوے، ستانوے میں ایک پروگرام چلتا تھا “وی جے” ، اس میں فیصل قریشی اور احسن رحیم وغیرہ ہوتے تھے،وہ انورمقصود صاحب کی ایکسٹینشن تھی، دوہزارایک میں آکر اس سے آگے گیند ہم نے پکڑ لی۔مجھے لگتا ہے کہ  یہ وہ گیم ہے جس میں گیند ہم آگے والے کو پکڑاتے جاتے ہیں،جو وقت کے حساب سے اس میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہے۔۔میرا نہیں خیال کہ ہم نے کوئی رنگ وغیرہ دیا ہے،میرے خیال سے انورمقصود صاحب ایک عرصہ سے مستقل مزاجی سے لکھے جارہے ہیں یہ ایک کمال بات ہے۔۔پاکستان کے مزاح نگاروں میں ، جن کا میں فین ہوں ان میں صرف دو لوگ ہیں، ایک انورمقصود صاحب دوسرے ہیں فاروق قیصر صاحب۔۔جو انکل سرگرم لکھتے رہے، انہوں نے کچھ کامیڈی ڈرامے لکھے جو بہت ہی کمال کے تھے،ان کا ایک ڈرامہ “ہوبہو” مجھے بڑا پسند تھا۔انورمقصود ہر دور میں چھائے رہے، ففٹی ففٹی کی بات کریں یا پھر لوزٹاک کی۔۔ آج کل تھیٹر ڈرامے بہت ہی زبردست لکھ رہے ہیں۔۔

سوال:آپ کےڈراموں میں کلاسیکی یعنی فیملی ٹچ نظر آتا ہے۔۔؟؟

واسع: اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی وی سے پلا ہوا ہوں۔۔یہ ٹچ اسی وجہ سے نظر آتا ہے۔۔ ہمیں سمجھایاگیا تھا کہ ایسا کام کروبھیا جو اپنی ماں بہن کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکو، بس اتنی سی سنسرشپ کا خیال رکھتے ہیں۔اسی لئے ایسا کام کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر میں اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکیں۔۔

سوال: آپ کے قلم کی روانی کس قسم کی تحریر لکھتے ہوئے خودبخود تیزہوجاتی ہے؟

واسع:کسی بھی قسم کی تحریر لکھتے ہوئے قلم کی روانی ہرگز تیز نہیں ہوتی، مجھے لکھتے ہوئے موت پڑی ہوتی ہے۔۔آپ کو بالکل ایمانداری سے بتارہاہوں، یہ جملہ افسانوی طورپر تو بڑا اچھا لگتا ہے،میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، میری حالت اگر کوئی دیکھ لےتو آپ مجھ پر رحم کرسکتے ہیں یاپھر ہنس سکتے ہیں۔ میرا کوئی قلم رواں نہیں ہے، بس بڑا زور لگ رہا ہوتا ہے۔۔اللہ معاف کرے۔۔یہ سب اوپر والے کا کرم ہے کہ دھکااسٹارٹ کام جاری ہے۔

سوال:کسی بھی تخلیق کار کوشاہکار  بنانے کے لئے کوئی الگ اور پرسکون مقام کی ضرورت ہوتی ہے، آپ کے لئے لکھنے کا آئیڈیل ماحول کیا ہوتا ہے؟

واسع:کہتے بالکل ٹھیک ہیں، لیکن میرے ساتھ ایسا بالکل نہیں، بہت مشکل ہوجاتا ہے ان چیزوں کا حاصل کرنا۔۔

سوال: آپ تو ہر سوال کا بالکل متضاد جواب دے رہے ہیں؟

واسع:آپ کے ہر سوال کے میں وہی جواب دے رہا ہوں جو بالکل ٹھیک ہیں۔۔

سوال:بچپن میں کس جانب رجحان تھا؟ اگر آپ میڈیا پرسن نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟؟

واسع:آپ نے دو الگ الگ سوال ایک ساتھ کرلئے، پہلی بات تو یہ کہ آپ بچپن کو کہاں تک تسلیم کرتی ہیں۔۔اسکول لیول تک تو میرے والدین اور مجھے بالکل آئیڈیا نہیں تھا کہ میں یہ کام کرسکتا ہوں یا یہ کام کرونگا۔۔ایسا کچھ نہیں تھا، میں بہت شرمیلا بچہ تھا۔۔اور کافی عرصے تک بہت شرمیلا ہی رہا یہ اب پچھلے کچھ دس پندرہ سال سے میری شرماہٹ کچھ دور ہوئی ہے۔۔والدہ کی خواہش تھی کہ میں فوج میں چلاجاؤں لیکن مجھے وہاں جانانہیں تھا، کیوں  کہ میرے سے جایانہیں جانا تھا۔۔ان کے امتحان ہی مجھ سے کلیئر نہیں ہورہے تھے۔۔اگر میں میڈیا پرسن نہ ہوتا تو بہت زور لگالیتا تو ایک تھکا ہوا “بینکر” ہوتا۔۔تھکے ہوئے پر زور ہے۔۔تھکے ہوئے اینکر سے مراد یہ ہے کہ جو ایک بار کسی طریقے سے اپنی جاب پہ لگ جائے پھر کسی بھی طرح اپنی عمر وہیں گزاردے۔۔

سوال: کیا بچوں کے لئے بھی کچھ مزاح لکھنے کا ارادہ ہے؟؟

واسع: میں نے کبھی میسیج کو بنیاد بنا کر کوئی کام نہیں کیا۔ میرے کام میں صرف انٹرٹیمنٹ ہوتی ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ میں ایسا کام کرنے کو فوقیت دیتا ہوں جسے فیملی کے ہمراہ بیٹھ کر دیکھا جاسکے۔۔میں نوالے بنابناکر میسیج دینے والوں کے حق میں نہیں ہوں۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ میسیج ہے تو ٹھیک ہے اگر نہیں لگتا تو میرے نزدیک وہ بھی ٹھیک ہے۔میرے لئےیہی میسیج کافی ہے کہ آپ اپنے گھروالوں کے ساتھ اپنی ماں،اپنی بیٹی، اپنی بہن کے ساتھ بیٹھ کر میرا پروگرام، میرا ڈرامہ میری فلم دیکھ سکتے ہیں۔میسیج دینے والے اور بہت سے لوگ ہیں تو آپ میسیج ان سے لے لیں۔

ٹارگٹ کبھی بھی آسان نہیں لگتا، انسان بس کوشش ہی کرسکتا ہے۔سیلف میڈ انسان ہوں تو ہر کام خود ہی کرنا پڑتا ہے، ورنہ یہ ہے کہ نہ کریں، لیکن نہ کرنے والا آپشن کچھ مناسب نہیں لگتا

سوال:کس قسم کی بات پر آپ سنجیدہ ہوجاتے ہیں اور غصہ بھی آجاتا ہے؟؟

واسع:ہر اس بات پر جو آف کیمرہ ہوتی ہے، آپ نے مجھے آن کیمرہ ہی ہنستا مسکراتا دیکھا ہوگا۔فلم، ٹی وی یا میرا شو ہو میرا کام ہی ہنسنا ہوتا ہے۔ورنہ میں ایک بہت ہی سنجیدہ آدمی ہوں۔کچھ لوگوں کو یہ سرپرائز بھی لگتا ہے کہ آپ تو بڑے سیرئیس ہیں۔میرا کام ہے تو ہنستامسکراتا ہوں ورنہ میں سنجیدہ ہی ہوں۔۔

سوال:آپ کے خیال میں میڈیا اپنا کام ٹھیک کررہا ہے یا پھر اسے درست کرنے کی ضرورت ہے؟

واسع:بالکل اس کی سمت کا تعین درست کرنے کی ضرورت ہے۔میڈیا ہم پر بہت اثر انداز ہے۔ پہلے تو میڈیا تھا اب مجھے لگتا ہے سوشل میڈیا ہم پر بہت زیادہ اثرانداز ہے۔دونوں میڈیاز نے بڑا کام خراب کیا ہوا ہے۔دونوں کو درست کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ایک بات تو بہت سنجیدگی سے آپ کو کہتا چلوں کہ ہمیں اتنے میڈیا کی کوئی ضرورت نہیں۔نہ ہمیں اتنی انفارمیشن کی ضرورت ہے۔ہمیں بہت زیادہ انفارمیشن مل رہی ہے، آج سے دس سال یا بارہ سال پہلے کا زمانہ دیکھ لیں۔اب خبروں کی صداقت کا بہت زیادہ مسئلہ ہے کہ کون سی خبر درست ہے کون سی غلط۔دوسری بات یہ کہ اگر برازیل میں مرغیوں کو موشن لگے ہوئے ہیں تو اس کے بارے میں آہپ کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے،ایسی خبر آپ کے فیس بک پر کوئی لگادے گا وہ آپ پڑھنے بیٹھ جائیں، ایسی بہت سی انفارمیشن ہوتی ہیں جو میرے خیال میں غیرضروری ہے۔آپ کا ٹائم ضائع ہورہا ہے،جسے بچانے کی بہت ضرورت ہے ، آپ کو اپنے کام پر فوکس کرنےکی ضرورت ہے۔میڈیا کی اخلاقیات وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں جس کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔جو ہم نہیں کرپارہے۔۔

سوال:آپ کا پروگرام مذاق رات بہت دیکھا جاتا ہے، کتنا مشکل ہوتا ہے ہر بار ایک نئی چیز دینا؟؟

واسع:یہ ایک ٹیم ورک ہے، اور بہت ہی مشکل کام ہے۔۔ اس فارمیٹ کا یہ پاکستان میں واحد شو ہے جو کہ انٹرٹینمنٹ کے زمرےمیں آتا ہے باقی تو نیوزاینکرش شو ہوتے ہیں، چاہے وہ حامد میر ہوں، بادامی ہوں یا کوئی اور ہوں۔ہمارا شوایک ہی “گو” میں شوٹ ہوتا ہے،یہ تھیٹر کی طرح ہے، آپ آئیں دیکھیں، کہ ایک گھنٹہ کا شو ریکارڈ کرتے ہیں درمیان میں کہیں نہیں روکتے،اس لئے میں غلطیوں کی بہت گنجائش ہوتی ہے کیوں کہ جب ہم درمیان میں شو نہیں روک رہے تو جو فائر ہوگیا تو ہوگیا۔اس کے لئے ہمیں پہلے تیاری کرنی پڑتی ہے۔ہم اپنے مہمانوں کو گھنٹوں نہیں بٹھاتے، خود ہی سارا پیپرورک کرلیتے ہیں۔باقاعدہ اسکرپٹ ہوتا ہے۔ کافی محنت ہوتی ہے۔ پچھلے تین سال میں ہم نے اسے فیملی شو بنادیا ہے۔ہم نے پچھلے تین سال میں اس شو میں کئی تبدیلیاں کی ہیں، اس کے کانٹینٹ کو بہتر بنایا ہے، کئی چیزیں اس میں بالکل منع ہیں، مثال کے طور پر ٹرانس جینڈرز پر ہمارے شو میں آپ کو کوئی جگت نہیں ملے گی۔خواتین پر تشدد کے حوالے سے بہت ساری جگتیں ہیں جو ہم نہیں کرتے۔یہ چیزیں ہم نے جان بوجھ کر ختم کی ہیں جو باقی شوز میں آپ کو ملیں گی۔ تھیٹر والے تو دستی بم کی طرح ہوتے ہیں انہیں جہاں پھینکیں گے وہاں جاکر پھٹ جائیں گے۔انہیں بہت کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ہمارے پروگرام ہیڈ ایوب خاور صاحب ہیں، جو پی ٹی وی سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے یہ فیلڈ دیکھی ہوئی ہے،فائنل ایڈٹ وہ نکالتے ہیں وہ بھی اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ یہ پروگرام فیملی کے ساتھ دیکھا جاسکے۔کامیڈی کا معیار کیا ہونا چاہیئے۔ ہم بھی جگت بازی کررہے ہیں،بات وہی ہے کہ ٹیم آپ کے پاس ہے آپ کو پلیئرز کو کیسے کھلانا ہے یہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

سوال:کبھی ایسا ہوا کہ کوئی گیسٹ مائنڈ کرگیا؟

واسع:اللہ کا شکر ہے ابھی تک ایسا بالکل نہیں ہوا۔اگر کبھی ایسا کچھ ہونے لگے تو میں کور کرتا ہوں۔ہاں ایک فیصد کبھی ایسا ہوا ہو،وہ ہم نے کسی نہ کسی طرح کور کرہی لیا، کیونکہ یہ ایک آرٹ ہوتا ہے۔آپ کو مہمان کے ردعمل سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ شو کس طرف جارہا ہے تو اسے فوری کور کیاجاتا ہے۔یہ بھی ایک ترکیب ہوتی ہے جوہرکسی کو نہیں بتائی جاسکتی۔ا

سوال:گھر والوں کے لئے وقت کیسے نکالتے ہیں اور اس وقت کو کیسے انجوائے کرتے ہیں؟؟

واسع:وقت جب بھی نکل آئے نکال لیتے ہیں، رات کو کام ختم کرکے گھر ہی جاناہوتا ہے۔جیسے نارمل گھر سب کے ہوتے ہیں ویسی ہی نارمل زندگی ہماری بھی ہوتی ہے۔میں گھر جاکر کوئی قلابازیاں تو نہیں مارتا۔چھتوں پر اڑ اڑ کر تو نہیں جاتا۔

سوال: مستقبل میں کیا نیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

واسع:یہ تو کبھی بھی پتہ نہیں ہوتا،نہ مجھے پتہ ہونا چاہیئے، کیوں کہ جو ہونا ہے وہ تو ہوگا، جو خیال ہےاپنے ٹائم سے ہی آئے گا، نہیں آئے گا تو اوپر والے نے نہیں بھیجنا،میں ایویں بیچ میں ہیرو بننے کی کوشش کیوں کروں؟

سوال:میڈیا میں کون سے ایسے شعبے ہیں جہاں نئے آنے والوں کی اشد ضرورت ہے؟

واسع:جس کی جو مرضی بننا چاہتا ہے وہ تو بنے گا، کوئی اداکار بننا چاہے گا، کوئی اینکر کوئی رائٹر۔۔ میرا خیال ہے کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ پر کم زور دینا ہوگا انہیں حقیقی زندگی پر فوکس کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، آج کل کی جنریشن انٹرنیٹ کو ہی سب کچھ سمجھتی ہے۔گوگل سے باہر نکلنا ہوگا، عام زندگی میں جائیں، ریسرچرز کمپیوٹر سے ہلتے نہیں۔ انہیں کوئی کام بول دو تو گوگل سے ڈھونڈ کر لاتے ہیں جو غلط ہی ہوتی ہے اکثر۔۔زندگی کے تجربات حاصل کریں کیوں کہ انٹرنیٹ جھوٹ ہے سارا کاسارا۔۔اداکار انسٹاگرام پر پاگل ہوئے ہیں،فلٹر لگالگا کر تصویریں لگاتے ہیں۔۔تھاٹ پراسس پر توجہ نہیں سارا فوکس اپیئرنس پر ہے۔میں نوجوانوں سے کہوں گا کہ پلیز اپنی پڑھائی مکمل کرکے اس فیلڈ میں آئیں،میری فیلڈ انٹرٹینمنٹ کی ہے تو یہاں بہت سے ایسے ملتے ہیں جنہوں نے انٹر میں چھوڑ دیا، کچھ نے بیچلرز میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔ہر لڑکا خود کو فواد خان سمجھتا ہے، لڑکیاں خود کو ماہرہ خان اور مہوش حیات سمجھ رہی ہیں۔۔ اگر آپ خود کو پورا پیکیج سمجھتے ہیں لیکن یہ کام ایسا ہے کہ یہاںکوئی گارنٹی نہیں۔میں آپ کو ایسے ایسے ٹیلنٹڈ سنگرز بتادوں جو کہ نہیں ہیں،اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے لئے کہاجاتا ہے کہ یہ کیوں چل رہے ہیں؟ یہ کام بڑا عجیب ہے، یہ بہت ہائی رسک کام ہے۔

You might also like